Thursday, September 11, 2008

Ham keh Tehray Ajnabi


ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت ہی بےدردلمحےختمِ دردِ عشق کےت

ھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی

کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کيئے

ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

0 comments: